نئی دہلی 31/جولائی (ایس اونیوز) عدلیہ کی تاریخ میں پہلی مرتبہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس آف انڈیارنجن گوگوئی نے الہ آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس ایس این شکلا کے خلاف رشوت خوری کے معاملے کی تحقیق کے لئے سی بی آئی کو کیس درج کرنے کی اجازت دی ہے۔
جسٹس شکلا پر الزام ہے کہ انہوں نے مبینہ طور پر بدعنوانی سے کام لیتے ہوئے2017-18میں ایک پرائیویٹ میڈیکل کالج کو ایم بی بی ایس کورس میں داخلہ کی مقررہ تاریخ گزرجانے کے بعد اور سپریم کورٹ کے حکم کی خلاف ورزی کرتے ہوئے طلبہ کو داخلہ دینے کی اجازت دی تھی۔
یاد رہے کہ تقریباً30برس قبل25جولائی 1991کو عدالت عالیہ نے کسی بھی سِٹنگ سپریم کورٹ یا ہائی کورٹ جج کے خلاف کسی بھی تحقیقاتی ایجنسی کو اس وقت تک کیس درج نہ کرنے کی پابندی لگادی تھی جب تک کہ متعلقہ جج کے خلاف تمام ثبوت چیف جسٹس آف انڈیا کے سامنے پیش نہیں کیے جاتے، اور تحقیقات کے لئے سی جے آئی کی اجازت حاصل نہیں کی جاتی۔1991 سے قبل بھی کسی ایجنسی نے کسی سٹنگ سپریم کورٹ یا ہائی کورٹ جج کے خلاف کبھی کوئی تحقیقات نہیں کی تھی۔
اب عدلیہ کی تاریخ میں پہلی بار چیف جسٹس آف انڈیا کی طرف سے جسٹس شکلا کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کی اجازت دینے کے علاوہ انہیں ہائی کورٹ جسٹس کے عہدے سے ہٹانے کی تحریک پارلیمنٹ میں منظور کروانے کے لئے وزیر اعظم سے تحریری سفارش بھی کی گئی ہے۔معلوم ہوا ہے کہ اندرونی ضابطہ کمیٹی کی طرف سے جسٹس شکلا کے خلاف تحقیقات کے بعدسنگین بدعنوانیوں کے معاملے سامنے آئے ہیں۔اسی وجہ سے جسٹس شکلاکوجنوری 2018سے عدالتی سرگرمیوں سے الگ کردیا گیا تھا۔ معلوم ہوا ہے کہ سی جے آئی کی طرف سے اجازت ملنے کے بعدسی بی آئی جلد ہی جسٹس شکلا کے خلاف بدعنوانی روک تھام قانون(پی سی ایکٹ) کے تحت درج کرے گی اور ان کو گرفتارکیے جانے کے تمام امکانات پیدا ہوگئے ہیں۔
معلوم ہوا ہے کہ اس سے پہلے جسٹس نارائن شکلا نے چیف جسٹس آف انڈیا سے درخواست کی تھی کہ ان پر لگی ہوئی پابندی ہٹاتے ہوئے انہیں دوبارہ عدالتی سرگرمیوں میں حصہ لینے کی اجازت دی جائے۔ مگر سی جے آئی رنجن گوگوئی نے جسٹس شکلا کی درخواست مسترد کردی تھی۔2017اتر پردیش کے ایڈوکیٹ جنرل راگھویندرا سنگھ نے سی جے آئی مسرا کے پاس جسٹس شکلا کے خلاف بدعنوانیوں کی شکایت درج کی تھی۔ اس وقت سی جے آئی مسرا نے مدراس ہائی کورٹ کی چیف جسٹس اندرابنرجی، سکم ہائی کورٹ چیف جسٹس ایس کے اگنی ہوتری اور مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کے جسٹس پی کے جیسوال پر مشتمل ایک تحقیقاتی پینل تشکیل دیا تھا۔ اس پینل کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں کہا تھاکہ جسٹس شکلا کے خلاف بدعنوانی ثابت کرنے اور انہیں اس عہدے سے ہٹانے کے لئے کافی شہادتیں موجود ہیں۔رپورٹ میں مزید کہا گیا تھا کہ جسٹس شکلا نے عدلیہ کے اقدار کو زک پہنچائی ہے اور اپنے عہدے کے منافی کردار اداکیا ہے۔
پینل کمیٹی کی رپورٹ ملنے پر اس وقت کے سی جے آئی مسرا نے جسٹس شکلا کو مشور ہ دیا تھا کہ یا تو وہ خود ہی اپنے عہدے سے مستعفی ہوجائیں یا پھر رضاکارانہ ریٹائرمنٹ لیں۔ مگر جسٹس شکلا نے دونوں میں سے کسی بھی پر مشورے پر عمل نہیں کیا اور دوبارہ عدالتی سرگرمیوں میں انہیں شامل کرنے کا مطالبہ کیا۔ اس کے بعد اب سی جے آئی رنجن گوگوئی نے ان کو عہدے سے ہٹانے کی سفارش کے ساتھ ا ن کے خلاف کیس درج کرنے کی اجازت سی بی آئی کو دیدی ہے۔